پیکا کالا قانون

تحریر: آغا السید منور حسین کاظمی ۔

کافی دنوں سے دیکھ رھا تھا کہ ھمارے بہت سارے لکھاری بھائی ھیں جو بہت اچھا لکھتے ہیں۔ مگر صحافت کے قتل کی کوشش پر سب لکھنے والے دم سادھ کے بیٹھ گئے بلکہ یوں کہنا چاہئیے کہ سب کے قلم کو سانپ سونگھ گیا ھے ۔ چلیں مان لیا کہ فیس بک پر املا نہ لکھ سکنے والے صحافیوں کو تو پتہ ھی نہیں کہ اس قانون کے ذریعے ایف آئی اے کو کھلی چھٹی دے کر حکومت نے شرافیہ کی پگڑیوں کو محفوظ بنانے کے ساتھ ساتھ صحافتی ھتھیار یعنی قلم کو تالا لگا دیا ھے۔ اس قانون کے خلاف رائیٹر صحافیوں کی خاموشی تو خوف و ھراس کا مظہر نظر آرھی ھے لیکن صحافتی تنظیموں کی ابھی تک خاموشی معنی خیز ھے۔ قانون کو صدارتی آرڈیننس کے تحت پاس کروا لیا گیا فیک نیوز بریک کرنے ، لکھنے پر پانچ سال قید کی سزا کے اس قانون میں دو بنیادی جزو کو واضع نہیں کیا گیا

1 )کہ فیک نیوز کی تحریف کیا ھے۔

2 )فیک نیوز کی اشاعت کی ممانعت اخبارات ، ٹیلیویژن اور ریڈیو تک محدود ھو گی یا بے لگام سوشل میڈیا بھی اس کی زد میں آئے گا ؟ یہاں یہ بات واضع ھو چکی ھے کہ فیڈرل انوسٹیگیشن اتھارٹی کو اختیار حاصل ھو گا کہ وہ بنا ایف آئی آر کے اندراج فیک نیوز بریک کرنے والے صحافی کو گرفتار کر کے کارروائی عمل میں لا سکے گا ۔ بعد از تحقیقات اگر نیوز درست ثابت ھو تو کیا اس دوران جو عرصہ جوڈیشل ریمانڈ اور سزا دی جا چکی ھو گی اسکا کوئی ازالہ ھو گا ؟ ھر خبر رساں ادارہ بغیر تحقیق اور باقاعدہ چانچ پڑتال کئے کوئی خبر شائع کرتا ھی نہیں تاھم بعض اوقات تو سرکاری سطح پر دی جانے والی پریس ریلیز بھی ایسے مواد پر مبنی ھوتی ھے جو فیک کے زمرے میں آتی ھے۔ سیاسی جماعتوں کے لیڈر بار ھا ایسے بیانات دیتے ھیں جن سے بعد ازاں انکاری ھو جاتے ھیں ایسی صورت میں کیا بیان دینے والا مجرم قرار پائے گا یا پھر بھی صحافی کے پلے ڈال دیا جائے گا۔

ویسے تو اس قسم کے ہتھکنڈے ھمارے ملک میں کئی مرتبہ استعمال ھوئے ھیں لیکن آمریت کے دور میں۔ موجودہ حکومت تو عوام کے پسندیدہ اور منتخب نمائندوں کی حکومت ھے جس سے عوام بڑی توقعات وابستہ کئیے ھوئے تھے اور یہی حکومت آزادی صحافت کا پرچار بھی کرتی دیکھی گئی ھے۔ کیا یہی آزادی صحافت ھے ؟ اس قانون کے خلاف عدالت میں درخواست دائر ھوئی سماعت کے دوران معزز جسٹس صاحب نے استفسار کیا ھے کہ کیوں نہ اس قانون کو کالعدم قرار دے دیا جائے ؟ اور عدالت کی جانب سے یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ کیا اس وقت ملک میں مارشل لاء نافذ ھے ؟ ماشاء اللّٰہ موجودہ دور میں پاکستان کی عدالتوں کی جانب سے اچھے ، بروقت ، خوش آئند اور برمبنی انصاف فیصلے سامنے آرھے ھیں۔ اس حوالے سے بھی توقع کی جاسکتی ھے کہ صحافت اور صحافی کو انصاف میسر آئے گا۔ تاھم صحافتی تنظیموں اور صحافیوں کو اپنے قلم کے تحفظ کی خاطر میدان میں آنا چاہئیے صحافی تو ظلم کے خلاف ھر غریب امیر کی آواز بنتا دیکھا گیا ھے پھر اپنی باری معنی خیز خاموشی (چہ معنی) البتہ سوشل میڈیا کے صحافیوں کو بھی آنکھیں کھولنی ھوں گی کیونکہ پیکا قانون میں صرف فیک نیوز کا تزکرہ ھے فیک نیوز کی تشریح نہیں اور نیوز بریک کرنے والے کو کیفرِ کردار تک پہنچانے یعنی 5 سال اندر کرنے کا تزکرہ ھے چھوٹے بڑے پرنٹ میڈیا الیکٹرانک میڈیا یا سوشل میڈیا کی تشریح نہیں کی گئی۔ اسلیئے سوشل میڈیا ھوشیار باش کیونکہ سب سے زیادہ فیک کی پالیسی اور بے باک اور بے ہنگم طریقے سے سوشل میڈیا پر لکھا اور چلایا جاتا ھے۔ کیونکہ پرنٹ میڈیا، الیکٹرانک میڈیا پر پھر بھی کچھ قواعد و ضوابط موجود ھیں اور کہیں نہ کہیں انہیں لاگو بھی کیا جاتا ھے مگر سوشل میڈیا تو شتر بے مہار ھے ۔ لہذا تحفظ قلم اور قلم کار کی خاطر آگے بڑھنے اور حقوق کا دفاع کرنے کا یہی وقت ھے خدانخواستہ آج کی صحافتی خاموشی آپ کو صدیوں پیچھے دھکیل سکتی ھے۔ آئیے اس کالے قانون پیکا کے خلاف بلا امتیاز سیاسی، گروھی، ترجمانی، مفاد پرستی آواز بلند کیجئے ورنہ آنے والی نسلوں میں یا تو کوئی صحافت کے شعبہ سے وابستہ نہیں ھو گا یا پھر ھماری جنریشن کو کوستا رھے گا ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔