کشمیر ڈے

تحریر : آغا السید منور حسین کاظمی۔۔

ھر سال پانچ فروری کو کشمیر ڈے یوم یکجہتی کشمیر کے طور پر آزاد کشمیر ، پاکستان سمیت پوری دنیا میں کشمیری مناتے ھیں۔ اس دن کے منانے کا آغاز جماعت اسلامی پاکستان کے امیر مرحوم قاضی حسین احمد نے کیا تھا جو بعد ازاں سرکاری سطح پر منایا جانے لگا۔ جماعت اسلامی کی تحریک آزادی کشمیر کے ساتھ دلچسپی اور لگن ھمیشہ سے ھی دیکھنے کو ملی ھے آزادی کے بیس کیمپ آزاد کشمیر ، مقبوضہ کشمیر ، پاکستان اور عالمی سطح پر ھمیشہ مظلوم کشمیریوں کا مقدمہ ھو یا عملی جہادی جہد وجہد ، آزاد کشمیر کے غریب مستحق عوام ھوں یا پاکستان میں آباد کشمیری ، آفات سماوی ھو، یا آفات ارضی عوام میں راشن وضروریات زندگی کی ترسیل وتقسیم ھو یا یتیم بچوں کی کفالت ، تعلیمی میدان ھو یا عوامی فلاحی کام الغرض جماعت اسلامی اپنے نام کی مناسبت سے ھمیشہ اپنے حصے کا کام بطریق احسن سرانجام دینے کی کوشش کرتی رھتی ھے۔ قطع نظر کہ اتنی بہترین کارکردگی کے باوجود سیاست کے میدان میں وھی عوام ھمیشہ اس جماعت کو مایوس کرتی ھے مگر جماعت اسلامی نہ ھی عوام سے شکوہ کرتی ھے۔ نہ اپنی مذھبی،اخلاقی زمہ داری چھوڑتی ھے اور نہ ھی مایوس ہوکر سیاسی میدان خالی کر دیتی ھے شائد اس جماعت کے منشور میں چیونٹی کی جدو جہد کا عنصر شامل ھے۔ جو سیاسی ومذہبی جماعت ھمیشہ اور سالہاسال سے عوام کی خدمت میں مصروف عمل ھے اگر عوام بیداری شعور کی بنا پر اسکو بھرپور انداز میں اقتدار میں لے آئے تو کیا سچ مچ میں پاکستان ریاست مدینہ کی ڈگر پر گامزن نہیں ھو سکتا ؟

میرے قارئین بخوبی واقف ہیں کہ میرا کسی سیاسی پارٹی سے کوئی تعلق نہیں ھے ۔ حقائق لکھنا اپنی مذہبی، اخلاقی اور صحافتی زمہ داری سمجھتا ھوں ۔

قضیہ کشمیر دھائیوں پرانا مسلہ ھے جو وطن عزیز پاکستان کے ادھورے ایجنڈے کا حصہ ھے۔ لیکن کشمیری بدقسمت عوام کئی نسلیں سے آزادی کا خواب اور پاکستان کے ساتھ الحاق کیلئے عظیم قربانیوں کی داستانیں رقم کرتے کرتے دار فنا سے دار بقا کو سد ھا چکے ھیں ۔ اور مقبوضہ کشمیر میں انسانی آبادیوں کے شہروں سے زیادہ قبرستان آباد ھو چکے ھیں۔ مسئلہ کشمیر وقت کے ساتھ ساتھ پر امن حل کے لفظ کی گردان بنتا چلا گیا ھے محدود وسائل اور ھندو درندوں کی یلغار کے باوجود مقبوضہ کشمیر کے جزبہ حریت رکھنے والے مجاھدین مرد و زن آزادی کی تحریک کو زندہ رکھنے کی خاطر اپنی جانیں ، عزتیں، عصمتیں قربان کرتے چلے آرھے ھیں۔ اور یہ آس لگائے بیٹھے ہیں کہ ھماری منزل پاکستان کے سیاسی، سماجی، مذہبی اور عسکری رھنماء کب محمد بن قاسم بن کر اپنی ماؤں، بہنوں ، بیٹیوں کی آواز پر لبیک کہیں گے ؟ یا صرف کشمیر ڈے پر کنونشن سنٹر میں بڑی بڑی شخصیات بہترین لباس زیب تن کر کے خوبصورت انداز اور بہترین الفاظ کے ساتھ یکجہتی منا کر نکل جائیں گے ۔ یا پھر کوھالہ اور دومیل برجز پر انسانی ھاتھوں کی زنجیر بناکر یکجہتی کے جزبے کا اظہار کرتے رھیں گے۔ یا پھر آزادی کے بیس کیمپ مظفرآباد کی اسمبلی میں ہنگامی اجلاس طلب کر کے اظہار یکجہتی کر کے مقامی، ملکی اور عالمی میڈیا کی زینت بنتے رھیں گے۔ کیا مظلوم کشمیریوں کو آزادی کا کوئی حق نہیں ؟ کیا ساری شہادتیں اور قربانیاں ھی صرف مظلوم کشمیریوں کے حصہ میں ھی آئی ھے ؟ کیا کبھی باقاعدہ اور باضابطہ مسئلہ کشمیر پر بات ھوگی ؟ کیا کبھی مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح کے فورم پر بلند کرنے کی توقع رکھی جاسکتی ھے۔ کیا اگر پر امن اور ھمسائیگی کے ایجنڈے سے ھٹ کر کوئی پہلو سامنے آئے تو کیا کشمیریوں کا ساتھ دینے کیلئے پاکستانی قوم ، سیاست دان، علماء اور عسکری قوت ھمہ وقت تیار ھے ؟

واقعی اب بات کشمیر ڈے منانے ، نعروں جھنڈوں ، ریلیوں ، جلوسوں ، جلسوں اور کانفرنسز سے بڑھ چکی ھے اب پوری سنجیدگی اور انسانی ہمدردی اور اسلامی اخوت کو مد نظر رکھتے ھوئے کشمیر کاز پر خارجہ پالیسی اور تحفظ کشمیر جوکہ در حقیقت تحفظ و بقاء پاکستان ھے پر عمل کرنے کا وقت آچکا ھے۔ ۔اللہ تعالیٰ مظلوم کشمیریوں کی جدو جہد کو کامیاب فرمائے اور پاکستان کو اپنی شہ رگ کی آزادی کیلئے عملی اقدامات کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔