مہمان نوازی یا چاپلوسی

تحریر: آغا السید منور حسین کاظمی ۔

 

گزشتہ روز انتظامیہ مظفرآباد ڈویژن کے اعزاز میں انجمنِ تاجراں جہلم ویلی نے پر تکلف دعوت طعام کا اھتمام کیا۔ کمشنر مظفرآباد مسعود اعون، ڈپٹی کمشنر جہلم ویلی سید فدا حسین کاظمی، سابق ڈپٹی کمشنر جہلم ویلی سردار طارق سمیت دیگر انتظامی افسران کے علاؤہ صحافی حضرات بھی اس دعوت کا حصہ تھے۔ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم نے دعوت کا اھتمام کرنے کو پسند فرمایا ھے۔ دعوت کرنا اور قبول کرنا سنت بھی احسن قدم بھی ۔ مگر راقم نے اپنی زندگی میں انتظامیہ اور تاجر کیمونٹی کے درمیان اس قسم کی پر تکلف دعوت تو پہلی مرتبہ دیکھی ھے بلکہ انتظامیہ کے ساتھ ایسے خوشگوار تعلقات بھی پہلی مرتبہ دیکھنے کو ملے ھیں ۔ نبی اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم نے تو غریب پڑوسی اور بھوکے کو کھانا کھلانے اور حسن سلوک اور بھلائی کا حکم فرمایا ھے۔ اگر یہ انجمن تاجراں اپنے پڑوسیوں اور غریب نادار مسلمان بھائیوں کو کبھی کبھی اتنا پر تکلف نہ سہی عام درجے کا کھانا ھی کھلا دیں تو سنت نبوی پر عمل بھی ھو جائے گا اور فوٹو سیشن کا موقع اور سوشل میڈیا تشہیر بھی۔ انتظامہ کی پر تکلف دعوتوں نے مہنگائی کی پسی عوام کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ھے کہ ( منہ کھاتا ھے تو آنکھ شرماتی ھے) کہ کہیں معاورے کا مصداق نہ ھو جائے ۔ پہلے ھی ریٹ لسٹ کے بغیر عوام کو دونوں ھاتھوں سے لوٹنے کا بازار گرم ھے ۔ ھر دوکان کا اپنا بھاؤ تاؤ ھے۔ مصنوعی مہنگائی عروج پر ھے ۔ اوزان و پیمائش کی چیکنگ کا کوئی معیار ھی نہیں ۔ کیمیکلز ملا پنجابی دودھ سرے عام فروخت ھو رھا ھے۔ ہوٹلوں پر باسی کھانے، غیر معیاری برتن، گندے کچن ، چھچھڑوں کے قیمے، کم وزن روٹی الغرض عوام کیلئے حفضان صحت کے گوں نہ گوں مسائل تلوار بن کر لٹک رھے ھیں۔ مسائل کی نشاندھی کرنے والے صحافی اور قانون نافذ کرنے والی انتظامیہ کی آنکھ تاجروں کی پر تکلف دعوت کی وجہ سے شرماتی رھے اور مسائل بڑھتے رھیں ۔ اداروں کے درمیان تعلقات کا استوار ھونا خوش آئند قدم ھے لیکن کچھ چیزیں خلاف معمول ھوتی ھیں اور مشکوک بھی ۔ ایک تجویز ھے انتظامیہ اور انجمن تاجراں اور دیگر فلاحی ادارے اشتراک و تعاون سے ھٹیاں بالا بازار میں مسافروں اور غرباء کیلئے روزمرہ کی بنیاد پر عام لنگر کے تحت کم از ایک وقت کے کھانے کا انتظام کر دیں تو خوشنودی خداوندی، سنت نبوی پر عمل بھی ھو جائے گا۔ اور غربا کی حوصلہ افزائی بھی۔ ویسے بھی اب تو حکومت پاکستان نے پورے ملک میں لنگر خانے کھول کر عوام کو سہولت کے ساتھ ساتھ محتاج اور بھکاری بنانے کا عزم کر رکھا ھے ۔ غور فرمائیے شائد بات اتر جائے میری دل میں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔