یوم سیاہ

(کس کے ھاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں)

 

تحریر : آغا السید منور حسین کاظمی

 

ھندوستان کا یوم جمہوریہ آج مقبوضہ کشمیر ، آزاد کشمیر اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری یوم سیاہ کے طور پر منا رھے ھیں ۔ اقوام متحدہ اور دنیا کے منصف اور امن کے علمبرداروں کیلئے لمحہ فکریہ ھے ۔ کہ جن سنگھی درندوں نے مقبوضہ وادی میں نہتے کشمیریوں پر جو ظلم و بربریت کا بازار گرم کر رکھا ھے۔ کیا عالمی ادارے ، امریکہ صاحب بہادر، مسلم اُمہ ، کسی کی ظاھری یا باطنی نظر اس مظلوم کشمیری مسلم قوم تک نہیں پہنچتی ؟ جو گزشتہ سات دھائیوں سے ظلم وزیادتی کی چکی میں پس رھے ھیں۔ اور جان ومال کے ساتھ ساتھ عزت و عصمت کی قربانیاں بھی پیش کر رھے ھیں ۔ اور ھر دن، ھر ھفتے ، ھر ماہ اور ھرسال کربلا کی یاد تازہ کرنے میں مصروف ھیں۔ کیا نسل درنسل یہ نہتے کشمیری عوام صرف قربانیوں کی داستان رقم کرتے رھے گے ؟ یا عالمی ضمیر کبھی بیدار ھو کر انکی لازوال و بے مثال قربانیوں کے ثمرات کی صورت آزادی کا سورج طلوع کروانے کی ھمت کرے گا۔

دھائیوں سے مسئلہ کشمیر کے پر امن اور پائیدار حل کا راگ سنتے چلے آئے ھیں۔ اور آزاد کشمیر سمیت مقبوضہ کشمیر کے عوام پاکستان کی طرف آس لگائے بیٹھے ھیں۔ نہ جانے کب کوئی محمد بن قاسم بن کر اس خطہ کو آزادی دلوانے میں کامیاب ھوگا ۔ موجودہ حکومت پاکستان کو تو اپنے خود ساختہ مسائل سے ھی فرصت نہیں ملتی وہ خارجہ پالیسی کی طرف توجہ کیا دے گی ؟ لیکن قیام پاکستان سے آج تک جس امید کے سہارے کشمیری قوم پاکستان کی طرف متوجہ ھے اس کی امنگوں کی تکمیل کیلئے کسی بھی منتخب حکومت نے مسئلہ کشمیر پر نہ ھی توجہ دی اور نہ ھی کوئی پائیدار حل نکالنے کی تجویز عمل میں لائی گئی۔

اپنے اقتدار کے حصول اور اسکی مدت پوری کرنے تک صرف تقاریر و تحریر کی حد تک اور کشمیر بنے گا پاکستان کے نعرے کو یاد رکھنے کی حد تک محدود رکھا گیا ھے۔ اور گزشتہ چند برس سے پانچ فروری کو یومِ یکجہتی منانے تک محدود یہ تحریک اب رفتہ رفتہ کمزور سے کمزور تر ھوتی جارھی ھے۔ ھم بعیثیت پاکستانی قوم آنے والی کشمیری نسلوں کو کیا جواب دیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔