ناکامی یا بوکھلاہٹ

تحریر : آغا السید منور حسین کاظمی

عوام کی خدمت کے جذبہ سے سرشار چوروں ڈاکوؤں کو بگھانے ، لوٹی دولت واپس لانے نیا پاکستان بنانے کے ایجنڈے والے عمران خان نے ملکی ترقی کیلئے تمام سیاسی جماعتوں کے بھگوڑوں کو ساتھ ملایا ، شبر زیدی، رضا باقر اور شوکت ترین کی مدد سے آئی ایم ایف کے ساتھ تعلقات بنائے ان دوھری شہریت کے حامل تجربہ کار بنکرز کو بڑی مشکل سے وطن واپس لانے میں کامیاب ھوئے۔ پوری قوم بالعموم اور تحریک انصاف کے کارکنان بالخصوص نئے پاکستان کے انتظار میں تھے۔ اور پھر نیا پاکستان رفتہ رفتہ بننا شروع ھوا ۔ پہلے ادویات کا بحران شروع ھوا تو عامر محمود کیانی کی قربانی دے کر عوام پر جان بچانے والی ادویات کی دس گنا قیمتوں کو جائز قرار دیا گیا۔ پھر عالمی وبا کوورڈ 19 میں وزیراعظم پاکستان کی کامیاب حکمت عملی کے باعث عوامی بے روزگاری اور بیوہ بے سہارہ خواتین کی بینظیر انکم سپورٹ کارڈ کی قربانی سے کرونا پر قابو پالیا گیا۔ چہ جائیکہ عوامی ریلیف کیلئے 12٫000 روپے ماہ رمضان ، گرمی انسانیت کی تزلیل اور دھکم پیل کے بعد کچھ خواتین اس یک وقتی امداد سے مستفید ھونے میں کامیاب ھوئیں ۔ اسی دوران عوام کو مشکلات سے نجات کیلئے انصاف ٹائیگر فورس کا قیام عمل میں لایا گیا ۔ کوئی بات نہیں کہ ابھی تک اس فورس نے کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں کی بزرگوں نے کہا ھے کہ امید پہ دنیا قائم ھے ۔ ذوالفقار علی بھٹو نے ایک فورس الذوالفقار کے نام سے بنائی تھی جسکے ثمرات بھٹو کے دنیا سے جانے کے بعد نظر آنا شروع ہوئے تھے۔ پھر لگ گئی آگ گھر کو گھر کے چراغ سے ۔ چینی بحران نے سر اٹھا لیا عمران خان کی محب الوطنی کی سوچ اور ترقی یافتہ نظریہ سے کوئی اختلاف نہیں ۔ لیکن وہ قابل ھیرے سیاستدان جنہیں دوسری سیاسی جماعتوں نے رول کھول کے کک آؤٹ کیا تھا عمران خان کی چاروں اطراف منڈلانے لگے اور چینی مافیا کے آگے نہ چاہتے ہوئے بھی عمران خان کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا۔ حالانکہ وزیراعظم ھاؤس کو بھینسوں کی قربانی اور مہمانوں کو چائے کی بجائے قہوہ بسکٹ سے خاطر تک کے تمام بچت کے طریقے اپنانے میں وزیراعظم نے کوئی کمی نہیں چھوڑی ۔ ملکی تاریخ میں پہلی بار پٹرولیم مصنوعات اور حکومتی وزرا کی تبدیلیوں کو پندرہ دنوں میں ایکشن میں دیکھا عوام یہی سمجھتی رھی کہ یہ بھی نئے پاکستان کا حصہ ھے۔ لاکھوں نوکریاں تو شائد بیرون ملک سے آنے والے افراد کو ملی ھوں ۔مگر اپنے گھروں کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کیلئے جو حکمت عملی مرکزی بنک نے تجویز کر رکھی ھے وہ تو عام آدمی کیلئے نہیں ھے۔ مگر حکمت عملی تیار کرنے والے عظیم ترین شوکت ترین اور انکی ٹیم کو ملک میں بطور مہمان اداکار دعوت پر بلایا گیا تھا جو کہ آئی ایم ایف کے ملازم اور ایجنٹ ھیں وہ عوام کی بھلائی کیا سوچیں گے۔ گندم بحران نے سر کیا اٹھایا گندم کے ساتھ غریب کو بھی پیس کے رکھ دیا۔ رھی سہی کسر اب یوریا کھاد نے نکالنی شروع کر دی ھے۔ بجلی تو جیسے شوکت ترین ٹیم کے ساتھ ھی آئی ھے صبح شام عوام پر قہر بن کے اتنے ٹیکنیکل انداز میں گرتی ھے کہ صارفین کو سمجھ ھی نہیں آتی بل 700 روپے اور رنگ برنگے ناموں والے ٹیکس 1٫700 روپے ۔ جس غریب نے زندگی میں ٹیلی ویژن کی شکل تک نہیں دیکھی اس پر مسلسل PTV کے ٹیکس لاگو ھیں۔ اب تو منی بجٹ کی صورت میں عام آدمی کے سانس لینے پر بھی ٹیکس عائد کر دیا گیا ھے۔ پاکستانی قوم کی وفاداری اور صبر ھمت کو سلام جو وعدہ لیا عمران خان نے اس پر قائم ھے اور پس کے رہ گئی صبر کے ساتھ خاموش ھے۔ گزشتہ دنوں روسی ریاست میں پٹرولیم مصنوعات پر معمولی ٹیکس عائد کرنے پر خونی احتجاج دیکھنے میں آیا اور ھمارے اوپر مہینے میں دو مرتبہ پٹرول بم گرایا جاتا ھے کوئی سی تک نہیں کرتا ؟؟؟؟ ساری باتیں اپنی جگہ صبر ، استقامت ، قوت برداشت ، مافیا جات ادویات مافیا ، چینی مافیا، گندم مافیا، کھاد مافیا، بجلی مافیا، گیس مافیا، ٹیکس نادھندہ مافیا۔ ٹیکس اور احتساب کے حوالے سے وزیراعظم عمران خان سے عوامی سوال کیونکہ عوام تو صابر ھے راقم ھی لب کشائی کئے دیتا ھے۔ احتساب کے چئیرمن کی جانب سے لوٹی گئی قومی دولت کے ریکور ھونے کے زبانی بیانات سننے کو ملتے رھتے ھیں مگر صابر قوم کو اسکے حتمی فگر آج تک حقائق کی صورت میں نہیں دکھائے گئے۔ خیر صابر قوم نے تو اربوں روپے ڈیم فنڈز کی صورت میں بھی دئیے تھے راقم الحروف کے علاوہ کسی نے پوچھنے کی زحمت گوارہ نہیں کی۔ البتہ ایک بات سمجھ سے بالاتر ھے کہ بڑے بڑے سیاست دانوں کے گزشتہ دنوں سالانہ ٹیکسس کی مد میں 2٫000 سے 80٫000 تک کے گوشوارے ایف بی آر نے اناؤس کئیے جب کہ اگر پراپرٹی ٹیکس کی وصولی کا جو طریقہ کار عام آدمی کیلئے طے ھے اس میں 5 مرلہ مکان پر بھی جو ٹیکس عائد ھوتا ھے 2٫000 سے تو زیادہ ھی بنتا ھے۔ پھر یہ قلیل رقمیں ( چہ معنی ) سب سے اھم بات کہ وزیراعظم عمران خان نے وطن عزیز پاکستان کو ریاست مدینہ بنانے کا عزم ظاہر کیا تھا ریاست مدینہ نام کی فضیلت کے ساتھ ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم اور انکے جانشین خلفائے راشدین کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کا نام ھے۔ وزیراعظم ھاؤس کی بھینسیں اور گاڑیاں فروخت کر دیں کہ اسراف ھے۔ کیونکہ حضرت عمر فاروق اپنے کام کیلئے قومی خزانے کا تیل استعمال نہیں کرتے تھے ۔ ساتھ عمر فاروق رات کو بھیس بدل کے رعایا کی پریشانی اور بھوک ننگ کا صرف جائزہ نہیں لیتے تھے بلکہ اپنے کاندھے پر مستحقین کے گھروں میں راشن پہنچایا کرتے تھے۔ اور آپ رضی اللہ عنہم نے یہ بھی فرمایا تھا کہ اگر نہر فرات کے کنارے کوئی کتا بھوکا مرجائے تو اسکی موت کا زمہ دار عمر بن الخطاب ھوگا۔ اب نئی ریاست مدینہ کے گورنر ، وزرائے اعلیٰ، وفاقی وزراء، وزرائے مملکت، صوبائی وزراء کے پروٹوکول اور اخراجات کا کبھی جائزہ لینے کی بات کی صادق وامین وزیراعظم عمران خان نے۔۔ ؟ کیا یہ 30 +30 گاڑیوں کے قافلے اور سرکاری ھیلی کاپٹر کی پروازوں پر اٹھنے والے اخراجات کا اندازہ لگایا اور کیا یہ عمر فاروق کے بیت المال کے تیل سے کچھ بڑھ کر نہیں ھوگا ؟ کیا وزیراعظم پاکستان ، آرمی چیف، چیف جسٹس صاحبان ریٹائرمنٹ کے بعد ملک کے خذانے سے حاصل شدہ مراحات کے مستحق ھیں۔ وزیراعظم عمران خان اگر آپ یہ سب نہیں کرسکے تو نہ آپ عوامی لیڈر ھیں ، نہ ھی کامیاب حکمران اور نہ ھی ریاست مدینہ کا نام لے کر 22 کروڑ عوام کو جزباتی طور پر بلیک میل کر سکتے ھیں۔ آپکے ساتھ وھی روائیتی مطلبی مالخور لالچی جونکیں چمٹی ہوئی ھیں جو کبھی ذوالفقار علی بھٹو ، کبھی نواز شریف، کبھی بینظیر بٹھو، کبھی پرویز مشرف سے صرف مفاد پرستی کی خاطر جڑتے تھے اور مفادات کے اختتام پر تتر بتر ھو جاتے تھے۔ کل کا نام نہاد ٹیلیفونک ڈرامہ صرف اپنی دھونس جمانے کیلئے رچایا گیا۔ راقم نے خود درجنوں مرتبہ کال کی جو نہیں ملی وہ تو صرف انٹر کام کالز تھیں جن کی مد میں اپنا موقف عوام پر واضح کرنا مقصود تھا۔ کیا ایک مسلمان ریاست کے سربراہ کو یہ کہنا زیب دیتا ھے کہ اگر مجھے ھٹانے کی جسارت کی گئی تو میں خطرناک ھوجاؤں گا ؟ میں پھر سڑکوں پر آجاؤں گا ؟ آپ تو اقتدار میں ھیں آپ تو حزب اختلاف سمیت بقول آپکے چوروں ڈاکوؤں ، لٹیروں شہیدوں ، غازیوں اور صابر قوم کی ماؤں، بہنوں، بیٹیوں، یتیموں ، بیواؤں، امیروں ، سرمایہ داروں وسیم اکرم پلسوں سب کے لیڈر ھیں ریاست مدینہ کے رول ماڈلز تو عام معافی کے زریعے دشمنوں کے گھروں میں پناہ لینے والوں کو معاف کر دیا کرتے تھے آپ کس ریاست مدینہ کے ماننےاور چاھنے والے ھیں ؟ آپ آئندہ پانچ سالوں کی بات لے بیٹھے ھیں لگتا ھے اقتدار کا نشہ چڑھ چکا ھے۔ مگر اللّٰہ تعالیٰ کے بعد عوام کی طاقت کا اندازہ لگانے کی کوشش کریں ۔ اور اکیلے میں بیٹھ کے سوچیں عوام صابر شاکر تو ھوسکتی ھے مگر اندھی اور بے وقوف نہیں کل فصلی بٹیروں نے اڑ جانا ھے آپ اپنے پارٹی کارکنوں اور عوام کو کیا منہ دکھائیں گے۔۔۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔