وارڑ بندیاں نظر ثانی

تحریر : آغا السید منور حسین کاظمی۔

حالیہ یونین کونسلز اور واڈز کی نئی درجہ بندی کی ترتیب میں کچھ گاؤں اور واڈز کو دوسری یونین کونسل یا دوسرے وارڈ کے ساتھ منسلک کیا گیا ھے۔ محکمانہ تقسیم میں محکمہ مال ، محکمہ مردم شماری اور انتظامی ریکارڈ رکھنے والے اداروں کو تو اسی میں آسانی ھو گی۔ لیکن عوام کیلئے ان یونین کونسل اور وارڈ بندیوں سے مسائل میں اضافہ ھوگا ۔ شہری آبادی میں گنجان آبادی ھونے کی وجہ سے وارڈ میں ردوبدل سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا تاھم دور دراز گاؤں کی آبادی کے لوگوں بالخصوص ضعیف العمر افراد اور خواتین کو حق رائے دھی کے استعمال کیلیے میلوں پیدل چل کر جانا ایک بنیادی مسلہ ھوتا ھے۔ گزشتہ دنوں بلدیاتی انتخابات کے اعلان کے بعد ھر گھر سے الیکشن امیدوار کی صدا بلند ھو رھی تھی۔ مگر اس بنیادی مسلے پر ابھی تک کسی نمائندے نے آواز بلند کرنے کی جسارت نہیں کی۔ یونین کونسل سینا دامن ضلع جہلم ویلی کی دوسری بڑی یونین کونسل ھے۔ اس کے وارڈز کی سابقہ ترتیب کچھ یوں تھی۔ (1)وارڈ بنی لنگڑیال، (2)وارڈ بنی ھوتریڑی، (3)وارڈ پرھوڑ،( 4)وارڈ سربگلہ، (5)وارڈ سیناں، (6)وارڈ دامن، (7)وارڈ سم گڑنگ، (8)وارڈ ڈمیاں سوکڑ، (9)وارڈ بانڈی موہری،(10) وارڈ بانڈی احمد خان،(11)وارڈ باٹبنی موجودہ صورت حال میں دو تبدیلیاں عمل میں لائی جارھی ھیں۔ گاؤں ناٹو کو وارڈ سیناں سے علیحدہ کیا جارہا ھے اور وارڈ سر بگلہ کو دوسرے وارڈ کے ساتھ منسلک کیا جا رھا ھے۔ ڈوگرہ رجیم سے گاؤں ناٹو موضع سیناں کا حصہ رھا ھے۔اور بلدیاتی انتخابات 1992 میں وارڈ سیناں مرکزی پولنگ اسٹیشن سیناں میں گاؤں ناٹو کے ووٹرز نے حق رائے دھی استمعال کیا بلکہ گاؤں ناٹو سے تعلق رکھنے والے چوھدری سلیمان مرحوم وارڈ ممبر بھی منتخب ھوئے۔ وارڈ سربگلہ سے اسی الیکشن میں راجہ بشیر خان مرحوم منتخب ھوئے جو چئیر مین یونین کونسل سیناں دامن بھی رھے۔ درج بالا زمینی حقائق کی روشنی میں ھر دو متذکرہ مقامات کے عوام اپنی سابقہ پوزیشن سے خوش اور مطمئن تھے اور ھیں بھی عوام کی رائے اور سہولت کو مد نظر رکھتے ھوئے انتظامیہ ضلع جہلم ویلی یونین کونسل سیناں دامن کی سابقہ وارڈ بندی کو بحال رکھے کیونکہ اس یونین کونسل میں کوئی ردوبدل نہیں ھوا لہذا اس کے وارڈز میں بھی تبدل وتغیر نہ کیا جائے کیونکہ عوام نئی وارڈ بندی سے ناخوش نظر آتی ھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔