صحت کارڈ

نام درستگی کی جائے صحت کارڈ) ( درست نام فراڈ کارڈ)

تحریر : آغا السید منور حسین کاظمی

گزشتہ دو برس سے نیا پاکستان بنانے والی نا انصافی حکومت نے پہلے غریب عوام کیلئے صحت انصاف سہولت کارڈ جاری کیا جو اب بلدیاتی انتخابات رشوت کارڈ کے طور پر استعمال کیا جانا مقصود ھے۔ پہلے تو ایک ایک فیملی کو کئی کئی کارڈ جاری ھوئے ثبوت موجود ھیں۔ اب شنید ھیکہ ھر پاکستانی کو کارڈ دیا جائے گا۔ علاج معالجہ کیلئے جو ھسپتال پینل پر رکھے گئے ھیں انکا کیا Criteria ھے قطع نظر لیکن اس میں جو معیار علاج کیلئے رکھے گئے ھیں انتہائی غیر منصفانہ تقسیم ھے۔ کیا صرف حادثاتی طور پر یہ کارڈ استعمال ھونا قرین انصاف ھے ؟ کیا زچگی کے علاج کیلئے یہ کارڈ بنایا گیا ھے؟ کیا دل آپریشن کیلئے اس کارڈ کا اجراء ھوا ھے ؟

کیا صرف گردوں کا مرض ھی اس کارڈ کی ترجیح ھے ؟ ایک آدمی کی جیب میں 7 سے 10 لاکھ روپے مالیت کا کارڈ موجود ھے مگر اسکے پھیپھڑوں کا علاج کسی بھی پینل ھسپتال میں میسر نہیں ھے۔ کسی بھی نادار ، غریب اور عمرانی مہنگائی کے مارے مریض کو یہ کارڈ جنرل او پی ڈی میں 30 روپے کی انٹری پرچہ تک کا فائدہ نہیں پہنچا سکتا ۔ دل کے سارے مریضوں کی نہ ھی تو اوپن ھارٹ سرجری ھوتی ھے نہ ھی انکے اسٹنٹ ڈلنے ھوتے ھے بلکہ ملک میں لاکھوں دل کے نادار ضعیف مریض بھی ھیں جنکا علاج میڈیسن سے ھوتا ھے جو شائد ڈسپرین کی گولی بھی از خود خرید نہیں سکتے ۔ جن لوگوں کے پھیپھڑے ڈیمج ھے انکا آپریشن امریکہ میں ھی ھوتا ھے وہ جب اسپیشلسٹ ڈاکٹر کے پاس جاتے ھیں تو وہ اسکے ایکسرے ، سی ٹی سکین اور دیگر میڈیکل ٹیسٹ کرانے کی سفارش کرتا ھے۔ پھر اسکا علاج ھزاروں میں نہیں بلکہ لاکھوں کے اخراجات میں ھوتا ھے۔ ایسے مریضوں کو صحت کارڈ پینل ھسپتال پر مکمل جواب ملتا ھے کہ یہاں صرف ایڈمٹ ھونے اور آپریشن ایڈوائز ھونے کی صورت میں کارڈ قابل قبول ھے۔

گویا یہ فراڈ کارڈ صرف بڑے بڑے ہسپتالوں کو فائدہ پہنچانے کیلئے جاری کیا گیا ھے ۔ اور دل کے کچھ خوش قسمت مریض اور کچھ زچگی والی خواتین ایکسیڈنٹ والے لوگ اس کارڈ سے مستفید ھوتے دیکھے گئے ھیں۔

اگر یہ کہا جائے کہ یہ سکیم کارڈ بھی کسی مافیا کے آلہ کار کے طور پر جاری کیا گیا ھے تو بے جا نہ ھو گا۔ حکومتی ترجمانوں کے ملکی ٹیلیویژنز پر جھوٹے دعوے اور عمران خان کی ترجمانی کی قلعی بھی غریب کے سامنے کھلتی جارھی ھے۔ حکومت اس کارڈ کو فوراً منسوخ کرکے یہ ڈرامہ بند کرے تو بہتر ھو گا۔ دوسری جانب گزشتہ 10 سال سے بینظیر سپورٹ کارڈ کے نام سے کچھ غریب،نادار اور بیوہ خواتین کو مالی امداد میسر تھی احساس کفالت کے نام نہاد پروگرام نے اسکی جگہ لے کر 80فیصد مستحقین کو محروم کر دیا ۔ ادھر ثانیہ نشتر سرکاری ترجمان دن رات جھوٹ کے پلندے اور زمین آسمان کے قلابے ملانے میں مصروف ھے۔ آخر کب تک غریب کا استعصال اور مستحق کے نام کا استعمال کر کے مافیا اپنی جیبیں بھرنے میں مصروف رھے گا ۔

 

اس تحریر کو پڑھنے والوں سے گزارش ہیکہ اپنی آراء سے نوازیں تاکہ ظالم حکمرانوں تک مظلوم کی آواز پہنچ سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔