بقاء وطن اھم

(ملک کی بقاء اھم)

 

تحریر : آغا السید منور حسین کاظمی۔

 

سانحہ سیالکوٹ غیر اسلامی، غیر فطری اور غیر اخلاقی عمل ھے۔ بظاھر دین اسلام اور حرمت رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کی آڑ میں رونما ھونے والے واقعے سے مسلم دنیا تذبذب کا شکار ھے۔ لیکن درحقیقت اس واقعے سے غیر مسلم اور مسلم کش لابیاں اپنی مرضی کے نتائج حاصل کرنے میں کامیاب ھوں گی۔ دہشتگردی کے واقعہ لاھور جو سری لنکن کرکٹ ٹیم پر حملہ ھوا تھا کے نتیجہ میں آج تک پاکستان انٹرنیشنل کرکٹ سے محروم اور عتاب کا شکار ھے۔ اور واقعہ نائن الیون کے سائے پوری مسلم دنیا پر ابھی تک قائم نظر آتے ھیں سیالکوٹ واقعہ جہاں انسانیت سوز اور بے پناہ درندگی کا منہ بولتا ثبوت ھے وھیں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ناقص کارکردگی اور حکومتی نااہلی و ناکامی کی علامت بھی ھے۔ اس واقعے سے ملکی سطح پر تو خیر کوئی مثبت یا منفی نتائج اخذ ھونگے یا نہیں لیکن بین الاقوامی سطح پر وطن عزیز پاکستان کا ایمج( وقار) ضرور متاثر ھو گا ۔ کیونکہ مسلہ تحریک طالبان پاکستان کا ھو یا دائش کا ھمیشہ اسکو عالمی سطح پر مسلم انتہا پسندی کے زمرے میں شامل کیا جاتا ھے۔ اب اس واقعے کے پس پشت کیا حقائق اور کیا عناصر کار فرما ھیں یہ الگ بات سہی لیکن ھمارے دشمن پڑوسی ملک سمیت اسلام اور پاکستان دشمن قوتیں اس سانحہ کو وطن عزیز کے خلاف عالمی ھتیار کے طور پر استعمال کریں گی اوپر سے سانحہ کے شکار شخص کا تعلق ھندو مذھب سے بھی ھے۔ ملکی معیشت ھو یا آئی ایم ایف پالیسیز اس وقت اگر گھبرا یا نہ جائے تو یہ پسی ھوئی عوام کی ھمت ھے ورنہ پاکستانی عوام اسوقت سانس لینے کے بھی قابل نہیں ھے۔ ھمارے میڈیا پر بیٹھ کر سیاسی جماعتوں کی ترجمانی کرنے والے مذھبی رھنما اس موقع پر خاموشی کا روزہ رکھے ھوئے ھیں حالانکہ اس وقت اسلامی تعلیمات اور اسلامی اقدار کی روشنی میں اس واقعے اور اس کے پس منظر میں رونما ھونے والے بے حرمتی کے واقعات کو پوری طرح عالمی سطح پر اجاگر کرنے کی ضرورت ھے ۔ لمحہِ فکریہ ھے حکومت پاکستان کے لئیے ، قانون نافذ کرنیوالے اداروں کیلئے اور علماء کرام کیلئے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔