ایجوکیشنل ٹرسٹ سینا دامن

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

ایجوکیشنل ویلفیئر ٹرسٹ یونین کونسل سینا دامن،

تمام ممبران کی خدمت میں سلام عرض ہو امید ہے تمام ممبران دوست احباب ایمان اور صحت کی اصل حالتوں میں ہونگے ویلفئیر ٹرسٹ کی بنیاد رکھنے پر تمام ممبران اور ارباب اختیار ،صاحب ثروت حضرات صد مبارکباد کے مستحق ہیں بہت زیادہ مصروفیات کی وجہ سے حاضری یقینی نہیں بنا سکا جس کے لیے معزرت خواہ ہوں اس سے قبل بھی اپنے ناقص علم کی روشنی میں ویلفئیر ٹرسٹ پر لکھنے کی کوشش کرتا رہا ہوں قارہین میرا موضوع خاص طور پرایجوکیشنل ویلفیئر ٹرسٹ رہا ہےمیں ارباب اختیار اور اہل ثروت حضرات،صاحب علم و دانش اور تمام ممبران کا دل کی عمیق گہرائیوں سے شکر گزار ہوں کہ شاید بندہ عاجز کی تجویز اچھی لگی اور اس انتہائی اہم پروجیکٹ پر کام شروع ہو گیا ہے میں نے کافی عرصہ پہلے خاص طور پر زلزلہ 2005 ء میں بڑے بڑے رفاعی اداروں میں کام کیا جن میں یونیسیف،این، آر، ایس، پی اور خاص طور پر آغا خان ہیلتھ سروسز، اے کے ڈی این اور مقامی طور پر کام کرنے والے بے شمار رفاعی ادارے شامل ہیں قارہین ویلفئیر کے حوالے سےمیں اپنا جو تجربہ آپ سے شیئر کرنا چاہتا وہ شاید کچھ قارہین کو پسند نہ آئے لیکن میری پوری کوشش اور ہمدردی ہوگی کہ میں اپنے تلخ تجربات سے آپ کو آگاہ کروں قارہین ویلفئیر ٹرسٹ سے بیک وقت بیواؤں ،یتیموں ، غریبوں مسکینوں اور غریب طالب علموں کی ہر طرح کی مدد کرنا بہت مشکل کام ہے اور اگر آپ اس عوامی ویلفیئر ٹرسٹ سے ضرورت مند افراد کی مدد نہیں کر پائیں گے لوگوں کا سخت ردعمل آئے گا اور خامخواہ ممبران کے درمیان آپس کی چپقلش شروع ہو جائے گی اور نتیجتاً ناکامی ہمارا مقدر بن جائے گی احقر کی تمام ممبران کی خدمت میں ایک رائے ہے وہ یہ کہ اگر اس ٹرسٹ کو آپ صرف تعلیمی ترقی تک محدود رکھیں گے تو انشاء اللہ کامیابی ہمارےقدم چومے گی اور اس کا نام بھی آپ یونین کونسل سینا دامن ایجوکیشنل ٹرسٹ رکھیں تو زیادہ بہتر ہوگا تاکہ امداد کی طرف عوام علاقہ کی سوچ ہی نہ جائے ہم نے اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلوا کر انہیں اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا ہے نہ کہ افراد معاشرے کو بھکاری بنانا ہے

* ایجوکیشنل ٹرسٹ کا قیام،

ایجوکیشنل ٹرسٹ کے لیے چند تجاویز، اور اخلاقی تربیت پر چند گذارشات،

(1) مالی معاونت

قارئین اس ایجوکیشنل ٹرسٹ سے ان ہونہار طلبہ وطالبات کی مالی معاونت کی جائے جو پڑھنا بھی چاہتے ہیں اور ذہین بھی ہوتے ہیں لیکن غربت آڑے آ جاتی ہے اور تعلیمی اداروں کی فیس ادا نہیں کر سکتے یا ہاسٹل کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے اور نتیجتاً ان کی تعلیم ادھوری رہ جاتی ہے اور پھر ناکامی ان کا مقدر بن جاتی ہے لیکن اس کے لئے بچے کی قابلیت اور دلچسپی دیکھ کر تعلیمی کمیٹی فیصلہ کرے ایسا نہ ہو کہ ٹرسٹ کا سرمایہ منشیات اور عیاشیوں کی نظر ہو جائے

(2)خستہ حال سکولوں کی تعمیر،

وہ تعلیمی ادارے خاص طور پر پرائمری سکول جن کی عمارتیں خستہ حال ہیں اور طلبہ وطالبات کے باعزت بیٹھے کی جگہ نہیں ان کے ساتھ کلاس رومز کی تعمیر ایک انتہائی اہم قدم ہوگا،

(3) گراؤنڈز کی تعمیر،

وہ تعلیمی ادارے جن کے ساتھ کھیل کے لیے گراؤنڈز نہیں ہیں اور خاص طور پر ہر گاؤں کی سطح پر پرائمری سکولز کے ساتھ گراؤنڈز کی تعمیر ہوتاکہ کھیل کےمیدان آباد ہوں اور منشیات کو شکست ہو میں جب گاؤں جاتا ہوں تو یہ دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے کہ ہمارے نوجوان شراب اور چرس جیسے خطرناک نشوں میں لت پت ہوگئے ہیں اور ان عناصر کو بے نقاب کیا جائے جو اپنے ناجائز کاروبار کے لئے ہمارے ان نوجوانوں اور بچوں کو اس آگ میں جھونک رہے ہیں

(4) یونین کونسل سینا دامنِ کے تعلیمی اداروں میں فرنیچر کا انتظام،

یونین کونسل سینا دامنِ کے خاص طور پر پرائمری سٹرکچر کی بحالی کے لئے فرنیچر کا انتظام مقامی افراد کے تعاؤن سے تاکہ بچے شدید سردی میں ٹھرٹھرانہ کے بجائے سکون سے پڑھ سکیں

(5) استاتذہ کے لیے انعامات کا اعلان

ایجوکیشنل ٹرسٹ یونین کونسل میں ان استاتذہ کی حوصلہ افزائی کے لئے انعامات کا اعلان کرے جن کی سالانہ بہترین کارکردگی ہو یہ انعامات ضروری نہیں کہ نقد رقم کی صورت میں ہوں بلکہ ٹرسٹ ایک شیلڈ بھی پیش کرسکتا ہے

(6)مسجد و مدرسہ کی تعمیر ،

ایجوکیشنل ٹرسٹ یونین کونسل سینا دامنِ کے ہر گاؤں میں مسجد و مدرسہ کی تعمیر کرے اور یہ تعمیر بغیر کسی تعصب کے ہو جس جگہ پر جس بھی مسلک کی کمیونٹی زیادہ آباد ہو اسی مسلک کا امام مسجد اور مؤذن ہونا چاہیے اور مسجد و مدرسہ کے پلیٹ فارم سے عوام الناس کو قرآن مجید کی تعلیم دی جائے سنت نبوی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی تعلیم کو عام کیا جائے مقصد یہ کہ قوم کے نونہالوں کو مصروف رکھا جائے اور ان کی دین کے زریں اصولوں کے مطابق تربیت کی جائے

(7)موٹیویشنل لکچر کا اہتمام،

استاتذہ،طلبہ اور والدین کی تربیت کے لیے ہر3ماہ بعد ماہر تعلیم سے موٹیویشنل لکچر کا اہتمام کیا جائے تاکہ عوام علاقہ اور طلبہ میں تعلیمی شعور بیدار کیا جائے ماہرین تعلیم طلبہ وطالبات کو تعلیم کی افادیت سے آگاہ کریں ہمارے پاس بہترین لوگ موجود ہیں جنہیں نے علم کی روشنی سے اپنا اور اپنے خاندان کے لوگوں کا مستقبل سنورا۔

*ہماری اخلاقی، مذہبی اور قومی زمہ داریاں،

کسی معاشرےکے فہم و فراست رکھنے والے اور پڑھے لکھے لوگ جو اپنے معاشرے اور پسے ہوئے طبقات کی خدمت کا جذبہ رکھتے ہوں اور قوم کے پسماندہ افراد کو آسودہ حال دیکھنے چاہتے ہیں تو قارئین آسودہ حالی اور بہتر مستقبل کا ایک ہی راستہ ہے وہ ہے بہترین تربیت اور اعلیٰ تعلیم، اعلیٰ تعلیم سے مراد کوالٹی ایجوکیشن ہے تاکہ معاشرےکے معمار بہترین عالم ہوں متعصب پسند نہ ہوں اعلیٰ استاذ ہوں یونیورسٹیز (جامعات) میں پروفیسرز اور تعلیمی اداروں میں مختلف شعبوں میں ہیڈ آف دی ڈیپارٹمنٹ ہوں بہترین ڈاکٹرز ہوں سول سروسز میں اعلیٰ آفیسرز ہوں افواج پاکستان میں کمیشنڈ آفیسرز ہوں، بہترین تربیت سے مراد افرادمیں ایسے ہیرے تراشے جائیں کہ ان کے اخلاق و اطوار سے پتہ چلے کہ ان کا تعلق واقعی ہی کسی علاقے یا معاشرےسے ہے. علاقے کے لائق بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلوانے کے لیے علاقےکے صاحب ثروت لوگ ایک باقاعدہ ایجوکیشنل ٹرسٹ کا قیام عمل میں لائیں اور اس ٹرسٹ سے غریب اور متوسط طبقے کے بچوں کی مدد کی جائے تاکہ کسی معاشرےکے وہ بچے جو کہ وسائل کی کمی کی وجہ سے سے اعلیٰ تعلیم سے محروم رہ جاتے ہیں زیور علم سے آراستہ ہوں اس ٹرسٹ کا ممبر علاقے کے ہرگھر کا ہر برسر روزگار شخص ہو اور وہ اپنی ماہانہ تنخواہ سے اس میں باقاعدہ حصہ ڈالے قارہین

جن افراد میں صلاحیت ہو گی وہی اللہ تعالیٰ کے نزدیک مقرب ہونگے اور اس کا نتیجہ سعادت مندی عاجزی اور انکساری ہوگا قارئین کوئی بھی معاشرہ باہمی عروج اور ترقی کے زینے چڑھنا چاہتا ہے تو نیک کاری اور صلاحیت اس معاشرے کی اولین ترجیح ہونی چاہیے. ناتراشدہ پتھروں سے کسی عالی شان عمارت کی دیواریں بنانا بہت ہی محال کام ہے جب تک ایک پتھر کے تمام پہلو ہموار نہ کر لیے جائیں تاکہ ایک پتھر دوسرے پتھر پر ٹھیک طور پر منطبق ہوجائے اسی طرح معاشرے اور اتحاد کے لئے ضروری ہے کہ پہلے افراد معاشرے کے اخلاق کی اصلاح کی جائے قارئین جس طرح ناہموار پتھر آپس میں پیوست نہیں ہوسکتے اسی طرح کسی معاشرےکے اخلاق سے عاری افراد اتحاد اصلی، اتحاد دائمی، اتحاد حقیقی کے مسلک میں پروئے نہیں جاسکتے مخلص اور منافق کے دل کو کون ملا سکتا ہے؟

تحریر ڈاکٹر غلام مرتضیٰ واہ کینٹ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے