صحافت پر حملہ

صحافت پر پھر حملہ

 

تحریر : آغا السید منور حسین کاظمی ۔

 

ان دنوں محکمہ صحت کے ملازمین وقتاً فوقتاً ایک اشتہار سوشل میڈیا پر چلا رھے ھیں جس پر حکومت پاکستان اور پیمرا کے مونو گرام بھی دکھائے گئے ھیں۔ اور اس کے زریعہ صحافیوں کو براہ راست ڈرانے کی برملا کوشش کی جارہی ھے۔ صحافیوں کو مطلع کیا گیا ھےکہ کوئی صحافی کسی سرکاری یا نجی ھسپتال میں کسی قسم کی کوریج تصویر یا کوئی خبر نہیں لگا سکتا دریں اثنا اس اشتہار میں دفعات اور سزائیں بھی درج ھیں۔( 1) اگر تو یہ اشتہار حکومت پاکستان اور پیمرا کی طرف سے ھے تو اسکی منظوری پارلیمنٹ سے کب ھوئی ؟ (2) اگر یہ واقعی درست ھے تو اسکا نوٹیفکیشن کدھر ھے ؟ اور اگر صرف صحافیوں کو پریشرائز کر کے انکی منصبی زمہ داری سے روکنے کی سازش ھے تو پیمرا اس نام نہاد خود ساختہ اشتہار کا فوری نوٹس لے۔ اکثریتی سرکاری ادارے بالعموم اور ھسپتال بالخصوص پہلے ھی غفلت، لاپروائی اور عدم دلچسپی کا بھر پور مظاہرہ کر رھے ھیں۔ جبکہ اس سازش کے تحت انہیں کھلی چھٹی دی جارھی ھے۔ اور سوشل میڈیا کو تو پیمرا نے مادرم پدرم آزاد کر دیا ھے۔ تمام سرکاری اداروں کے اکثر ملازمین سوشل میڈیا پر سیاسی پارٹیوں کے ترجمان بنے ھوئے ھیں۔ اور ایمپلائز یونینز کے تمام الیکشن اسی میڈیا کی وساطت سے سر انجام دئیے جاتے ھیں۔ کیا پیمرا کی آنکھوں سے یہ سب اوجھل ھے یا کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر لی ھیں۔ سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم سے سب سے زیادہ مذھبی منافرت پھیلائی جارھی ھے جس سے وطن عزیز کے اندر مذھبی اختلافات عروج پر ھیں۔ عوامی مسائل اجاگر کرنے کے نام پر اسوقت جو طوفان بدتمیزی برپا ھے اسکی لاتعداد مثالیں موجود ہیں۔ ھر دوسرے شخص نے محلے، گلی، گاؤں اور قصبے کے نام سے اپنے چینلز قائم کر رکھے ھیں۔ اور کچھ اوباش ایسے بھی ھیں جنہوں نے فیک آئی ڈیز بنا رکھی ھیں جس کے ذریعہ وہ سادہ لوح عوام کو بے وقوف اور شریف لوگوں کی عزتیں اچھال کر بلیک میل کرکے اپنا الو سیدھا کرتے ھیں ۔ کچھ نام نہاد چینلز پر معاشرتی برائیوں کی تشہیر کے انداز سے متاثرہ لوگوں کو سر عام بٹھا کر انٹرویوز کئیے جاتے ھیں جن میں خواتین کے ساتھ پیش آنے والے غیر اخلاقی واقعات کو مکمل تفصیل کے ساتھ بیان کیا جاتا ھے۔ جوکہ نئی نسل کو جرائم اور کرائمز کی تعلیم دینے کے مترادف ھے ۔ پیمرا ایسے تمام چینل اور سوشل میڈیا پیجز پر پابندی عائد کرے اور باقاعدہ چینل کی رجسٹریشن کرے تاکہ فیک نیوز اور غیر اخلاقی،غیر شرعی اور غیر قانونی مواد سے سوشل میڈیا اور وطن عزیز کو پاک کیا جاسکے۔ دریں اثنا کم از کم سرکاری ملازمین کو صحافی بننے کی کھلی چھٹی نہ دی جائے۔ اور صحافی حضرات جنہوں نے اپنی زندگیاں اس پیشہ کے ساتھ گزار دی ھیں عدم تحفظ کا شکار ھو چکے ھیں ۔ لمحہ فکریہ ھے صحافی برادری کیلئے بھی کہ انہیں انکی منصبی زمہ داری سے ڈرا دھمکا کر ھراساں کیے جانے کی روایت چل پڑی ھے اسکے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار کا کردار اداکرنا ھوگا۔

درج ذیل متذکرہ اشتہار ھے جب تک اصل حقائق سامنے نہیں آتے اس کی کوئی حیثیت نہیں ھے۔اور ھم صحافی برادری اس قسم کی کسی پابندی کو تسلیم نہیں کرتے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے