چہلم شہدائے کربلا

تحریر آغا السید منور حسین کاظمی ۔

 

آج 20صفر 1443ھجری ھے اور چہلم

شہدائے کربلا پوری دنیا میں انتہائی عقیدت و احترام سے منایا جائے گا۔ بلا تفریق امت مسلمہ نواسہ رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت ،عقیدت اور موودت اپنے اپنے عقائد کے مطابق رکھتے اور کرتے ھیں۔ اور یہی وسیلہ آخرت ھے۔آزاد کشمیر مذھبی اعتبار سے ایک پر امن خطہ ھے اور اللہ تعالیٰ اسے ھمیشہ امن وامان کا گہوارہ بنائے رکھے آمین۔ گزشتہ یوم عاشور چناری ضلع جہلم ویلی میں عزادارن امام حسین علیہ السّلام اور قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے مابین جو واقع رو نما ھوا وہ انتہائی افسوناک تھا۔ اس میں انتظامی غفلت اور کوتاہی کے ساتھ ساتھ دونوں مکاتب کے مذھبی جنون اور شرکاء جلوس کی قیادت کی نااہلی بھی اس واقع کی وجہ بنی تاھم پھر بھی تمام مکاتب فکر کے علماء اور مشائخ کی کوششوں سے معاملہ کسی قدر ٹھنڈا پڑا ۔آج پھر چہلم کا جلوس حسب سابق کچھہ میں برآمد ھوگا۔ تمام شرکاء جلوس امام حسین علیہ السّلام کے اسوہ اور فلسفہ سید المرسلین محمد المصطفیٰ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم اور مولائے کائنات علی ابنِ ابی طالب علیہ السلام ، آئمہ اطہار اور صحابہ کرام کی تعلیمات اور اتحاد امت کے فلسفہ کی پیروی کو ملحوظِ خاطر رکھتے ھوئے عزاداری کو جز ایمان اور عبادت سمجھ کر سر انجام دیں۔ علماء تشیع اور منتظمین جلوس و عزا داری ۔بطریق احسن اپنی زمہ داری نبھائیں اتحاد بین المسلمین اور وقت کی اھم ضروریات کو مدنظر رکھتے ھوئے تقاریر ، عقائد ، حقوق اور اخلاق کا دامن ہاتھ سے نہ جانے دیں۔ انتظامیہ جہلم ویلی گزشتہ کوتاہیوں کو مدنظر رکھتے ھوئے پوری زمہ داری اور مستعدی سے اپنے فرائض سر انجام دے تو کوئی غیر معمولی واقعہ رونما نہیں ھوسکتا۔ موجودہ حالات کے تناظر میں ضرورت اس امر کی ھے کہ ضلعی انتظامیہ تمام مکاتب فکر کے علماء ومشائخ اور تنظیمات کے زمہ داران کو قبل از وقت ھیڈ کوارٹر بلا کر طے شدہ ظابط اخلاق سے آگاہ کرے اور اس پر تمام مکاتب فکر کو پابند بھی کرے۔ اور انجمن جعفریہ جانثاران عباس علمدار (رجسٹرڈ) جو ضلع کی قدیمی اور زمہ دار تنظیم ھے اس کے زمہ داران تمام مکاتب فکر کے علماء کو اپنے پروگرامز میں شرکت کی دعوت دیں اور مجالس و جلوس میں انکو قیادت کی زمہ داری سونپیں اس سے جہاں بہت سارے ابہام جیسا کہ توھین امہات المومنین اور صحابہ جیسے بے بنیاد پراپیگنڈے سر اٹھا چکے ھیں کی صداقت کھل کر سامنے آئے گی وہیں اتحاد امت مسلمہ کا عملی مظاہرہ بھی دیکھنے کو ملے گا جس سے سیہونی اور مسلم دشمن قوتوں کی کمر بھی کمزور پڑے گی۔ بطورِ ثبوت امام عالی مقام حسین ابنِ علی علیہ السّلام کے خط کا عکس جو وہ اپنے کسی رشتہ دار ، شیعہ، کو نہیں بلکہ غیر سید دوست کو لکھ کر اپنی طرف بلا رھے ھیں اور مشہور و معروف شیعہ مجتہد کا فرمان جس سے شیعہ سنی اتحاد کی تلقین کی جارھی ھے ۔ مشعل راہ ھوں تو امن اور اتحاد ملت قائم رہ سکتا ھے۔اللہ تعالیٰ سب کو توفیق عطا فرمائے آمین۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے