عورت کی عفت اور پردہ

عورت کی عفت اور پردے کی اہمیت،

 

حدیث مبارکہ:

فرمان سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم لعنت ہو ان پر جو لباس پہن کر بھی برہنہ نظر آتیں ہیں ۔قارئین مندرجہ بالا حدیث کی رو سے اگر دیکھا جائے تو پاکستانی معاشرے میں بے راہ روی اور بگاڑ کی ایک بڑی وجہ عورت کے لباس کا مختصر ہونا بھی ہے ایک با حیاء ، حجاب والی عورت اور دوسری مختصر لباس والی عورت جب گھر سے باہر نکلتی ہیں ان میں سے زیادہ محفوظ کون ہے یہ ہر زی شعور بخوبی جانتا ہے آج عالم کفر اور ہمارے ہاں نام نہاد مسلمان جو اپنے آپ کو لبرل کہتے ہیں ہماری اس اعلیٰ اسلامی روایت کے در پے ہیں دو دن پہلے پروفیسر ڈاکٹر ہود بھائی نے جو بکواسات پردے پر کیے جس طرح عورت کی عفت و پاکدامنی کو مذاق بنایا اور ان عورتوں کو جو حجاب کرتیں ہیں abnormal کہاآگر اب بھی ان جیسے بے ہودہ لوگوں کو جواب نہ دیا گیا اور اپنی مشرقی اور اسلامی روایات کی حفاظت نہ کی گئی تو آنے والی نسلوں پر جو بے حیائی کا عذاب مسلط کیا جائے گا اور جو ہو چکا ہے اس کا خمیازہ ہر شخص اور ہر گھر بھکتے گا اس لئے اب وقت ہے کہ اپنی اولادوں کو اسلامی تشخص اور حجاب کی اہمیت کے متعلق بتائیں اور خاص طور پر بچیوں کے لباس پر بالکل سمجھوتہ نہ کریں کم ازکم لباس ایسا تو ہو جو ہماری مشرقی روایات کا آمین ہو سکن ٹائٹ ،جینز اور اس سے ملتے جلتے لباس جن سے جسم کی نمائش ہوتی ہو کو مسترد کیا جائے۔ ماؤں،بہنوں ، بیٹیوں اور ازواج کو عالم کفر اور خونی لبرل کے ناپاک عزائم سے آگاہ کیا جائے اور یہ بتایا جائے کہ قیمتی چیز ہی کو پردے میں رکھا جاتا ہے سید الانبیاء حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں پیش آنے والے ایک واقعہ کا ذکر کر کے اپنی ماؤں، بہنوں اور بچیوں کے کے لئے اپنے پیغام کو واضح کرنے کی کوشش کرونگا ایک خاتون صحابیہ جو کہ حجاب میں تھیں جن کا بیٹا ایک غزوہ میں شہید ہوگیا اس کے بارے میں پوچھنے کے لئے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بیٹھے ہوئے تھے لوگوں نے کہا عجیب عورت ہے اس کا بیٹا شہید ہوگیا ہے اس کو سخت صدمہ میں ہونا چاہیے اور اس پر ایک کیفیت طاری ہونی چاہئیے اور اس نے حجاب کیا ہوا ہے اس پر اس اللہ تعالیٰ کی پاکدامن بندی نے کیا جواب دیا ،

میں نے بیٹا کھویا ہے حیاء نہیں کھوئی

یہ تھی ہماری تہذیب اس تہذیب اور اقدار کو ہم سے چھننے کے لئے اغیار نے برسوں سازش کی اور ہمارے اندر اپنے جاسوس اور کارندے پیدا کیے

وقت کرتا ہے پرورش برسوں

حادثہ ایک دم نہیں ہوتا،،،،،،

ایک اسلامی ریاست کے توسط سے ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ وطن عزیز میں حجاب کو لازمی قرار دیا جاتا اور ملک پاکستان کے اندر اس وقت جو بے حیائی ،عریانی، فحاشی اور بے راہ روی کا طوفان بے تمیزی ہےسے بچا جا سکتا تھا اگر فرانس جیسے ملک میں حجاب کرنے پر پابندی ہے اور حجاب کرنے والی اسلامی بہنوں پر عرصہ حیات تنگ کر دیا گیا ہے تو اسلامی جمہوریہ پاکستان میں حجاب نہ کرنے پر پابندی عائد کرنے میں کوئی قباحت نہیں بلکہ اس اہم ترین اسلامی روایت کو زندہ کر کے دنیا اور آخرت دونوں کو بچایا جا سکتا ہے ہمیں اس وقت اپنی دختران اسلام کو یہ بتانے کی سخت ضرورت ہے کہ محرم اور غیر محرم رشتے کون کون سے ہیں مرد و زن کا اختلاط ہمارے معاشرے کو بے راہ روی کی طرف لے کر جا رہا ہے حقوقِ نسواں کی علمبردار لبرل آنٹیاں اور ڈاکٹر ہود بھائی جیسے مفکر مرد اور عورت کی برابری کی باتیں تو کرتے ہیں لیکن برابری کی بنیاد پر عورت کے لیے علحیدہ تعلیمی اداروں کی بات نہیں کرتے عورت کے لیے کالجز اور یونیورسٹیز الگ ہونی چاہیے جہاں پر عورت ہی صفائی کرنے والی ہو عورت ہی سکیورٹی کے فرائض سر انجام دیتی ہو عورت کلرک اور عورت ہی استاذ ہو مخلوط تعلیم کے تو حامی ہیں لیکن باتیں برابری کی کرتے ہیں

دائرہ اسلام میں رہتے ہوئے ہم سب پر اسلامی قوانین کا نفاذ ہوتا ہے۔ ان سے روگردانی ہی کو تو گناہ کہا گیا ہے۔ کون مسلمان ہوگا جو یہ نہیں مانتا کہ اسلام میں پردے کی اہمیت کیا ہے

اسی طرح پردے سے متعلق 70 سے زائد احادیث میں پردے کی اہمیت اور اس بارے میں احکام خداوندی پر عمل کا حکم دیا گیا ہے۔ ابو داؤد کی ایک روایت میں نبی کریم ﷺ نے عورتوں کو ایک کنارے میں چلنے کا حکم فرمایا ہے۔ اور ایک مرد کو دو عورتوں کے درمیان چلنے سے منع فرمایا ہے

حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بھی بدنظری کو مہلک بیماری اور فتنہ بیان فرمایا ۔ جس کا ترجمہ ہے’’یعنی اجنبی عورتوں کی تاک جھانک کرنے سے اپنے آپ کو بچاؤ، اس سے دلوں میں شہوت کا بیج پیدا ہوتا ہے اور فتنہ پیدا ہونے کے لئے یہ ہی کافی ہے۔

حضرت داؤد علیہ السلام، حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور دیگر انبیاء کرام نے مرد و عورت دونوں کو بے پردگی، فحاشی اور بے حیائی سے سختی کے ساتھ منع فرمایا ہے۔ آج جو کچھ ہورہا ہے یہ سب بے پردگی اور فحاشی ہی کا شاخسانہ ہے۔ یہ بات یقینی ہے کہ جس بھی کام سے اﷲ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے اس کی حکم ادولی سے ہمیشہ انسان کے مقدر میں ذلت ورسوائی ہی آئی ہے میں اپنے قارئین سے ملتمس ہوں جو جس جگہ پر اور جس کا جتنا زور چلتا ہے اپنی اقدار کو بچانے کی کوشش کرے حجاب اور پردے کی اہمیت کو اجاگر کریں ِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِ اور اس کو اپنی دینی اور ملی ذمہ داری سمجھ کر اپنے گھروں اور اپنے دفتروں میں اغیار کی سازشوں کو بے نقاب کریں

تحریر غلام مرتضیٰ واہ کینٹ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے