لمحہ فکریہ

لمحہِ فکریہ

ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کی ناک نیچے ڈینگی وائرس کی آماجگاہ۔

 

تحریر : آغا السید منور حسین کاظمی۔

 

ھٹیاں بالا تو بے فکروں کی دنیا ھے ۔ نہ کوئی خوف، نہ خطرہ، نہ احساس زمہ داری اور نہ ھی فرائض منصبی کا دھیان۔

ڈی ایچ او آفس کے گیٹ سے شروع ھو کر ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ھسپتال کے گیٹ تک کی روڈ کے ساتھ گندے پانی کا ایک خود ساختہ جوھڑ سنمبھال کے رکھا گیا ھے جو عام مچھروں کو بالعموم اور ڈینگی مچھروں کو بالخصوص دعوت عام دے رھا ھے کہ اگر کووڈ 19سے کوئی کسر رہ گئی ھو تو آؤ اور افزائش نسل کر کے نکال لو ھم حاضر ھیں۔ بقول شاعر ۔

پہنچ کے در پہ تیرے کتنے معتبر ٹھہرے۔

اگر چہ راہ میں ھوئیں جگ ھنسائیاں کیا کیا۔

خدا خدا کر کے اگر ھسپتال تک کوئی مریض پہنچ ھی جائے تو چھوٹے میاں تو چھوٹے میاں بڑے میاں سبحان اللہ۔۔۔۔

چھوٹے عملے کو کون کچھ پوچھے گا ۔ ڈاکٹر نادارد، لیبارٹری ٹیکنیشن غائب۔ ایکسرے روم خالی۔ خاکروب آدھی چھٹی پر اور تو اور میڈیکل سپرنٹینڈنٹ کا کمرہ مکمل مکفل پوچھنے پر معلوم ھوتا ھے صاحب ٹی بریک پر ھیں کبھی راؤنڈ پر کبھی ھاسٹل میں ڈاکٹرز کی میٹنگ کا لولہا لنگڑا بہانہ تحقیق سے واضح ھوا کہ یا تو موصوف ڈیوٹی پر حاضر ھی نہیں یا پھر ھاسٹل کے نرم بستر پر خواب خرگوش میں محو ھیں۔ مان لینے میں کوئی قباحت نہیں کہ آزاد کشمیر گورنمنٹ کے پاس شعبہ صحت کیلئے فنڈز نا پید ھیں اسی لئیے فارمیسی کی الماریاں ادویات سے محروم ھیں۔ غیر مسدقہ روایات کے مطابق کچھ لوگوں کو یہ بھی کہتے ھوئے سنا گیا ھے کہ۔ میڈیسن ھسپتال میں آتی ھیں لیکن باھر فروخت کر دی جاتی ھیں۔ ڈسٹرکٹ ھیلتھ آفیسر ڈاکٹر نعمان خواجہ ایک زمہ دار اور فرض شناس آفیسر ھیں کووڈ 19 کے دوران انہوں نے اپنے فرائض کی انجام دہی میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔

یہ تو معلوم نہیں کہ ڈی ایچ او کے انتظامی اختیارات کیا ھوتے ھیں مگر اپنے آفس کے گیٹ کے سامنے سے لے کر ھسپتال کے گیٹ تک کے جوھڑ اور ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ھسپتال کے اندرون احوال کا اگر کبھی جائزہ لے لیں اور محض انسانی ھمدردی اورایک زمہ دار ھیلتھ آفیسر ان امور پر غور فرما لیں تو شائد کچھ بہتری آسکے۔ ویسے تو یہاں کی روایت یہی رھی ھے کہ سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر خان اس ھسپتال تو کیا اس ضلع میں ھی اپنی مرضی کی تعیناتیاں کر کے من پسند چہیتوں کے دل موہ لینے کی کوشش کرتے رھے ھیں ۔ وزیراعظم عبد القیوم نیازی اگر اس روایت کو تبدیلی کے سانچے میں ڈھال کر کچھ بہتر اقدامات کریں تو شائد عوامی مفاد میسر آسکے۔