ضلعی انتظامیہ جہلم ویلی

ھٹیاں بالا

ضلعی انتظامیہ جہلم ویلی کا خواب غفلت سے جاگنا ضروری ھو گیا۔

 

تحریر : آغا السید منور حسین کاظمی۔

 

کل زلزال جھیل کا حادثہ بظاھر اتفاقیہ ھے لیکن کیا کڑلی جھیل ضلع جہلم ویلی کے انتظامی اختیار میں نہیں آتی ؟ قبل ازیں بھی اس جھیل میں لوٹ مار اور دیگر اقسام کے حادثات پیش آ چکے ھیں۔ اس کے ساتھ ھی زلزلہ کے نتیجہ میں بننے والی ایک اور جھیل بھی موجود ھے جس میں گزشتہ دنوں بھی کچھ نوجوان ڈوب چکے ھیں۔ اور بارھا گھریلو زندگی سے تنگ خواتین خود کشی کی غرض سے بھی اس جھیل کا رخ کر چکی ھیں۔ قہر خداوندی کے پیشِ نظر جھیل کی شکل اختیار کرنے والی ان عبرت گاھوں کو سیر گاہ کا درجہ دیا جاچکا ھے۔؟ یا لوگ اپنی مرضی اور خود سری سے ان میں کشتی رانی کر رھے ھیں ؟ کیا ضلعی انتظامیہ سے کوئی لائسنس یا اجازت نامہ لیا گیا ھے ؟ اگر نہیں تو ان غیر قانونی کشتی بانوں کو کھلی چھٹی کیوں ھے ؟ ضلع جہلم ویلی تو غیر قانونی حوالوں سے مسائلستان کی ریاست لگتا ھے۔ نیشنل ایکشن پلان 2014 کی روشنی میں غیر ملکی افغانیوں کے انخلاء کے بعد انہی افغانی باشندوں میں سے کچھ ابھی بھی ڈنکے کی چوٹ پر ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ھٹیاں بالا پر نام نہاد کاروبار کی آڑ میں نہ جانے کیا کیا گل کھلا رھے ھیں ۔ کیا نیشنل ایکشن پلان کی پالیسی تبدیل ہوگئی ؟ یا پھر ان چند گنے چنے افغان باشندوں کو کسی خاص وجہ سے نرمی دے دی گئی ھے ؟ ویسے تو کرائم کی شرح ھٹیاں بالا میں کرونا کی شرح سے بھی کہیں زیادہ ھے۔ گزشتہ چند برسوں میں شراب، چرس، اغواء اور زنا وغیرہ کے متعدد کیس فائل ھوئے جن کا تعلق بلواسطہ یا بلا واسطہ ھٹیاں بالا کے پہلو میں موجود گاؤں لانگلہ سے ھے۔ معلوم نہیں کہ ان کیسز کا کیا انجام ھوا تاھم کسی مجرم کو کیفر کردار تک پہنچتے ھوئے دیکھا نہیں گیا۔ چند دن قبل ایک غیر ریاستی پٹھان اور متذکرہ بالا گاؤں کی لڑکی کا کیس فائل ھوا تھا۔ یہاں دو باتیں قابل زکر اور قابل غور ھیں۔ ایک یہ کہ اس گاؤں کی لا تعداد نامی گرامی شخصیات ھوئی ھیں جن میں تنولی عباسی خاندان سر فہرست ھے۔ جن میں سردار حمید اللہ خان مرحوم کا خاندان سر فہرست ھے۔ کیا اس علاقے کے ساتھ جرائم سے جڑی یہ کہانیاں ان معزز شخصیات کی تو ھین نہیں ھے ؟ اس حوالے سے سردار بشیر اللّٰہ خان عباسی، سابق وزیر حکومت ڈاکٹر مصطفیٰ بشیر عباسی، اور سردار سعید ظفر عباسی کو علاقے اور اسکی رسوائی کے حوالے سے قدم اٹھانا چاھئیے۔ اور دوسرے انتظامیہ اور متعلقہ پولیس کو اس گاؤں سے جرائم کی بیخ کنی کیلئے خصوصی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ھے۔ اب بھی غیر ملکیوں اور غیر ریاستیوں کے لئیے علاقے کے معززین اور انتظامیہ کے دلوں میں نرم گوشہ رکھنا بالائے سمجھ ھے۔ آج بھی بظاھر انتظامیہ کی نرم سی پابندی کے باوجود ھٹیاں بالا کے گرد نواح کے دیہاتوں میں پھیری والے غیر ریاستی پٹھان سروے کرتے نظر آتے ھیں۔ بازار میں گندگی کے ڈھیر ھوں ناجائز تجاوزات کی بھر مار ھو دوکاندار اپنی دکانوں کے آگے پیدل چلنے والوں کے حق فٹ پاتھ پر سامان سجائے ھوں۔ گاڑیوں کی ورکشاپس روڈ پر لگی ھوں۔ ھوٹلوں پر 20گرام وزن کی دو نوالوں والی روٹیاں فروخت ھو رھی ھوں غلیظ برتن، یوریا مکس دودھ کی چائے ھو، ناقص کھانے بد اخلاق عملہ یہ تو ھٹیاں بالا کے ہوٹلوں کا ٹریڈ مارک بن چکا ھے۔ چھچھڑوں کا قیمہ ھو کئی کئی دن کا باسی گوشت ھو نہ سلاٹر ہاؤس نہ کوئی ڈاکٹر قصائی بادشاہ سب پاس ۔ مرغی کے گوشت کو کڑلی کٹھے کا پانی 5 کلو سے 10 کلو بنا کے فروخت کرنے میں کوئی آر محسوس نہیں کرتا۔ گیس سیلنڈر والے تو ویسے بھی تمام تر قوانین سے مستثنیٰ ھیں۔ شہر کے بیچوں بیچ موت کی سوداگری کا دھندہ جمائے بیٹھے ھیں۔ ریٹ لسٹ جوکہ اسسٹنٹ کمشنر آفس سے روزانہ جاری ھوتی ھے اس امید پر اھلکار دوکانداروں تک پہنچاتے ہیں کہ اسکی قیمت 10روپے وصول کی جاسکے۔ کہیں بھی اسکا دیدار نصیب نہیں ھوا۔ اگر کبھی کبھار اسسٹنٹ کمشنر کا دورہ برائے چیکنگ بازار ھو تو اے سی آفس کے فرض شناس اھلکار پہلے سے دوکانداروں کو صفائی اور ریٹ لسٹ کے آویزاں کرنے کا عندیہ دے دیتے ھیں۔ ڈسٹرکٹ ھیڈ کوارٹر ایس پی آفس ، ڈی ایچ او آفس اور ڈسٹرکٹ ھیڈ کوارٹر ھسپتال کے مین گیٹ کے سامنے گندے پانی کے جوھڑبنا کے رکھے گئے ھیں تاکہ کووڈ 19 کی رھی سہی کسر ڈینگی نکال سکے ۔ انتظامیہ کے افسران سرکار کی فراھم کردہ جھنڈے والی ائیر کنڈیشنڈ گایوں میں شائد آنکھیں بند کر کے اس جگہ سے گزرتے ھوں اسی وجہ سے یہ سب انہیں نظر نہیں آتا۔ متذکرہ بالا معاملات پر بحثیت صحافی نشاندھی کرنا ھمارا فرض ھے اور اس پر نظر ثانی کرتے ھوئے انتظامیہ کو ان تمام معاملات پر اپنے فرائض منصبی کا اختیار استعمال کرتے ھوئے فوری کارروائی کرنا انتظامی زمہ داری۔ سابق وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان کا آبائی ضلع اور حلقہ ھونے کا کوئی خاطر خواہ فائدہ عوام کو تو نہیں ھوا مگر آئے روز اپنی مرضی کی ضلعی انتظامیہ کی اکھاڑ پچھاڑ سے زاتی مفاد تو حاصل ھوئے ھوں گے لیکن عوام علاقہ نالاں ضرور ھیں۔ وزیراعظم عبدالقیوم نیازی اگر اس ضلع کی انتظامی پسماندگی کا جائزہ لے کر اس ضلع کے عوام کی ضروریات اور انتظامی مسائل کے حل کی خاطر مناسب اقدامات کرتے ھوئے انتہائی مستعد اور زمہ دار انتظامی آفیسرز کی تعیناتی کے احکامات جاری کریں تو یہ احسن قدم ھوگا۔ یوم عاشورہ کے ناخوشگوار واقع میں انتظامی نااہلی، عدم دلچسپی اور غفلت کی مفصل رپورٹ پہلے ھی وزیرِ اعظم طلب کر چکے ھیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے