یوم عاشور ضلع جہلم ویلی

ھٹیاں بالا

یوم عاشورہ کا ضلع جہلم ویلی کا مرکزی ماتمی جلوس علم، ذولجناح، تازیہ مرکزی امام بارگاہ مسافرہ شام سے برآمد ھوا جو اپنے روایتی راستوں سے گزرتا ھوا چوک بازار کچھہ میں پپہنچا جہاں پر شرکاء جلوس سے علماء و ذاکرین نے خطاب کرتے ھوئے فلسفہ شہادت امام حسین علیہ السّلام پر روشنی ڈالی اور دین اسلام کی خاطر نواسہ رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کی قل کائنات قربان کرنے اور دین حق کو تا قیامت سر بلند کرنے کی عظیم یاد پر تاریخ کی روشنی میں گفتگو کی۔ عزاداران امام مظلوم نے حسب سابق چوک میں زنجیر زنی کا ماتم کر کے پرسہ پیش کیا۔ ضلع بھر سے آنے والے جلوس عزا بھی اس مرکزی جلوس میں شامل ھوتے رھے۔ عزاداری کے قدیم مرکز بانڈی سیداں کے روائتی جلوس کو کچھ انتہا پسند اور مذھبی مقاربت پسند عناسر نے چناری کے قریب روکنے اور ذدکوب کرنے کی کوشش کی۔ جسکی فوری اور بروقت اطلاع ضلعی انتظامیہ کو دی گئی جس پر غفلت کا مظاہرہ کرتے ھوئے قانونی کارروائی کرنے میں متعلقہ پولیس نے پس وپیش دکھائی۔ چہ جائیکہ ڈپٹی کمشنر سردار طارق محمود، ایس پی سردار ریاض مغل، ڈی ایس پی سید رضا گیلانی اور ایس ایچ او سٹی راجہ عنصر سجاد پولیس کی بھاری نفری سمیت جلوس کے ھمراہ رھے۔ مگر پر امن ماتمی جلوس کا راستہ روکنے اور علاقے کی پر امن فضا کو خراب کرنے کی کوشش کرنے والے شر پسند عناصر کے خلاف قانونی کارروائی نہ کر کے ضلعی انتظامیہ نے جس غفلت کا مظاہرہ کیا اس کے نتیجہ میں جلوس کے شرکاء واپس امام بارگاہ جانے کی بجائے چناری کی طرف پیش قدمی کرنے لگے۔ اس موقع پر پولیس ، انتظامیہ جلوس کے شرکاء اور شیعہ زعماء سے مزاکرات کرنے یا انہیں مطمئن کرنے میں ناکام ھوئی اور پولیس نے ساون کے مقام پر پرامن اور نہتے عزادارن پر اندھا دھند لاٹھی چارج اور بے دریغ آنسو گیس کا آزادانہ استعمال کیا متعدد عزادارن امام مظلوم زخمی ہوئے جس کے نتیجہ میں شرکاء جلوس اپنی جان بچانے کی کوشش میں ھاتھ پاؤں مارنے لگے۔ اس دوران ایک ایس ایچ او سمیت دو پولیس اہلکار بھی زخمی ھوئے جنہیں ڈسٹرکٹ ھسپتال ھٹیاں بالا منتقل کیا گیا۔ اس پر تشدد کارروائی کے باوجود جلوس چناری کے مقام پر پہنچ گیا جہاں شرکاء نے پر امن دھرنا دیا۔ بعد ازاں انتظامیہ اور شیعہ اثناء عشری کے زعماء کے درمیان مذاکرات کی کامیابی کے بعد جلوس کے شرکاء پر امن منتشر ہوگئے۔

جلوس کے دوران شہری دفاع ، فائز برگیڈ ریسکیو 1122 ھیلتھ ڈیپارٹمنٹ نے اپنے فرائض منصبی احسن طریقے سے انجام دئیے۔ گزشتہ 40 برس میں پہلی مرتبہ اس پر امن خطہ اور پر امن ماتمی جلوس کے ساتھ اس قسم کا واقعہ پیش آیا ھے جو یقیناً ضلعی انتظامیہ کی لاپرواہی اور غفلت کا منہ بولتا ثبوت ھے۔