یوم سیاہ

بھارت کا یوم آزادی یوم سیاہ

14 اور 15 اگست 1947 کے دن دو قومی نظریے کی بنیاد پر ھندوستان کی تقسیم کے ایجنڈے پر عمل درآمد ھوا اور پاکستان اور بھارت معارض وجود میں ائے۔ اور انگریزوں کی ملی بھگت کے نتیجے میں ریاست جموں وکشمیر کو متنازع حیثیت میں چھوڑ کر دونوں ممالک کی زمینی سرحدوں کا تعین کرتے ھوئے آزاد پاکستان اور آزاد بھارت کا قیام عمل میں لایا گیا۔ بھارت کے ھندو دھرم پجاریوں نے پہلے ھی دن سے ریاست جموں وکشمیر پر اپنی غلیظ نظریں گاڑ رکھی تھیں۔ سو یکے بعد دیگرے موقع پاکر ریاست پر اپنی گرفت مضبوط کرتے چلے گئے ۔ اور 73سال گزرنے کے باوجود بھی ریاست جموں وکشمیر کا ایک بڑا حصہ جن سنگیوں کے قبضے میں ھے۔ اور ریاست کا کچھ حصہ آزاد کشمیر کی صورت تحریک آزادی کے بیس کیمپ کے طور پر وسائل کی عدم دستیابی کی صورت میں کسم پرسی کے عالم میں اس پار اپنے نہتے اور بے بس بہن بھائیوں کی مدد کا جزبہ دل میں موجزن کسی مسیحا کے منتظر ہیں۔ گزشتہ روز پاکستان کا یوم آزادی پاکستان کے ساتھ ساتھ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی منایا گیا۔ اس سے بھی بڑھ کے مقبوضہ کشمیر میں پاکستان زندہ باد اور کشمیر بنے گا پاکستان کے نعروں اور پاکستان ھمارا ھے ھم پاکستانی ھیں جیسے جزباتی نعروں اور مقبوضہ کشمیر کی حریت قیادت کے پاکستان کے حق میں دیئے گئے بیانات سے مزین تھا۔ آج آزاد کشمیر ، مقبوضہ جموں وکشمیر ، پاکستان اور پوری دنیا میں مقیم ریاستی باشندے بھارت کے یوم آزادی کو یوم سیاہ کے طور پر منارھےھیں۔ آج سری نگر، جموں اور ریاست کے بڑے بڑے شہروں میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال ھے اور کشمیری عوام اپنی آزادی، خود مختاری کے حق میں ھمیشہ کی طرح علم بلند کئیے ھوئے ھیں اور دنیا کے ان منصفوں اور امن کے ٹھیکیداروں سے یہ سوال اٹھا رھے ھیں کہ کشمیری عوام کی آزادی انسانی حقوق اور انکی عزت، عصمت کی پامالی کے زمہ دار بھارت کی درندگی کے 73سال پورے ھونے پر بھی اقوام متحدہ اور امن اور سلامتی کے نام نہاد علمبرداروں کی انکھیں کیوں بند ھیں۔ کیا کشمیری عوام کا جرم یہ ھے کہ وہ مسلمان ہیں؟ یا وہ پاکستان کو اپنی منزل سمجھتے ہیں؟ یا یہ کہ وہ نہتے اور بے بس ھیں ؟ دنیا کے نام نہاد منصفوں سے ریاست جموں وکشمیر کے دونوں اطراف کے عوام اس سوال کا جواب مانگتے ھیں۔

تحریر : آغا السید منور حسین کاظمی۔

سی ای او کشمیر نیوز ٹی وی چینل & کشمیر نیوز گروپ آف میڈیا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے