محرم الحرام کا تقاضا

محرم الحرام

 

ماہ محرم الحرام 61 ھجری شہادت امام حسین علیہ السّلام اور انکے اصحاب واھلبیت ایک حادثہ نہیں بلکہ ایک مسلمہ اور اٹل حقیقت ھے۔ اور دین مبین اسلام کی تا قیامت سلامتی اور بقا کی ضمانت کیلئے دی جانے والی قربانی کا نام واقعہ کربلا ھے۔

در حقیقت یہ واقعہ دین اسلام کے پیروکاروں اور اسلام دشمن قوتوں کے درمیان ایک فیصلہ کن معرکہ تھا۔ جو بظاھر قتل ھو جانے والوں نے جیت لیا اور قاتلان اس معرکہ میں تا قیامت شرمندہ اور خوار ھوگئے۔

یہ ایک ایسی تاریخ ھے جسکو نہ کوئی مسخ کر سکا ھے نہ کرسکتا ھے نہ کر پائے گا۔ امام حسین علیہ السّلام کی لازوال قربانیاں امت مسلمہ پر احسان ھیں اور اسی احسان کے پیش نظر امت کا ھر فرد اپنی استطاعت کے مطابق عشرہ محرم الحرام کے دوران دامے ، درمے ، سخنے، قدمے واقعہ کربلا کی تاریخ کو یاد کر کے امام عالی مقام اور انکے رفقاء کو خراج عقیدت پیش کرتا ھے۔ بالخصوص شیعہ اثناء عشری ایام عزا کو نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ مناتے ھیں۔ اسلامی شعائر کو یادگار بنانے اور نسل در نسل منتقل کرنے کیلئے جس طرح ایام حج میں ارکان حج کی ادائیگی من عن ھزاروں سال پہلے کی طرح جیسا کہ ایک نبی کی زوجہ محترمہ ایک نبی کی والدہ گرامی نے ادا کی تھی تا قیامت امت مسلمہ پر بطور سنت عائد کر دی گئی تاکہ دنیا اس واقعے کو ھمیشہ یاد رکھے۔ اسی طرح شیعہ اثنا عشری نے اس واقعے کے ھزاروں سال گزر جانے کے باوجود اسکی یاد کو تازہ رکھنے کیلئے زمہ داری اٹھا رکھی ھے۔ قطع نظر عقیدہ و مسلک یقیناً یہ ایک بڑی زمہ داری ھے جسے امت مسلمہ کے ایک طبقہ نے نبھائے کا بیڑا اٹھایا ھے۔ ضرورت اس امر کی ھے کہ اسلام دشمن سیہونی قوتوں نے دو اسلامی بھائیوں شیعہ سنی کو جدا کرنے کی جو سازشیں شروع کر رکھی ھیں۔ انکو اتحاد بین المسلمین کے زریعے عملی مثال بناتے ھوئے شیعہ علماء کرام سنی علماء کرام کو اپنی مجالس عزا میں شرکت کی دعوت دیں اور ان سے امام حسین علیہ السّلام کے فضائل اور فلسفہ شہادت پر سیر حاصل گفتگو کروائیں اور شیعہ علماء کرام سنی حضرات کی معافل میں جاکے فضائل اھلبیت اور مصائب اھلبیت بیان کریں اور اپنا عقیدہ حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ اور امہات المؤمنین کے متعلق واضح کریں تاکہ جو ابہام و پراپیگنڈہ امت مسلمہ کو دو لخت کرنے کیلئے اپنایا جارہا ھے سے پردہ اٹھایا جاسکے اور امت واحدہ کو اتحاد و اتفاق کے ذریعے مستحکم کرنے میں مدد مل سکے۔ یہی وقت کی ضرورت اور ملت اسلامیہ کی بقاء کا واحد حل ھے۔ اللّٰہ تعالٰی پاک ہستیوں کے صدقے اور وسیلے سے امت مسلمہ اور وطن عزیز پاکستان کو دشمنوں کی سازشوں سے محفوظ رکھے اور آپسی اتحاد کیلئے جدو جہد کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ۔اس حوالے سے ممتاز مفکر و عالم دین حضرت مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی نے کتنی خوبصورت بات کہی ھے ملاحظہ فرمائیں۔

سوال یہ نہیں کہ جب سب نے بیعت کر لی تو حسین نے کیوں نہیں کی۔

سوال یہ ھے کہ جب حسین نے بیعت نہیں کی تو دوسروں نے کیسے کر لی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے